مجھے خبر تھی میرے بعد وہ بکھر جاتا..........سلیم کوثر

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ


مجھے خبر تھی میرے بعد وہ بکھر جاتا
سو اس کو کس کے بھروسے پہ چھوڑ کر جاتا

وہ خوشبؤں میں گھرا تھا کہ مثل سایہء ابر
میان صحن چمن میں ادھر اّدھر جاتا...

وہ کوئ نشہ نہیں تھا کہ ٹوٹتا مجھ میں
وہ سا نحہ بھی نہیں تھا کہ جو گزر جاتا

وہ خواب جیسا کوئ تھا نگار خانہ ء حسن
میں جتنا دیکھتا وہ اتناہی سنور جاتا

بس ایک خیال کی لؤ میں دھلا ہوا وہ بدن
میں جتنا سوچتا وہ اتنا ہی نکھر جاتا

رکا ہوا تھا میوا سانس میرے سینے میں
اسے گلے نہ لگاتا تو گھٹ کے مر جاتا

اک ایسے عالمء وارفتگی سے گزرا ہوں
جہاں سمیٹتا خود کو تو میں بکھر جاتا

شکست ہو گيا پندار آئینہ ورنہ
یقین کر میں تیرے عشق سے مکر جاتا

نہ جانے کتنے محازوں پہ جنگ تھی میری
بس ایک وعدہ نبھانے میں میں اپنے گھر جاتا

سلیم کوثر

Comment on this post