جو شخص حرم شریف میں داخل ہوتا ہے ............از قدرت اللہ شہاب شہاب نامہ

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ


میں نے سن رکھا تھا جو شخص حرم شریف میں داخل ہوتا ہے ، وہ اپنا جوتا ، اپنے گناہوں کی گٹھڑی ، یا اس کی فضیلت کی دستار اور اپنی بزرگی کا عمامہ دروازے کے باہر چھوڑ جاتا ہے -
اور کوئی نہیں کہ سکتا کہ جب وہ باہر آئیگا تو اس کا جوتا ، یا اس کی …گناہوں کی گٹھڑی ، یا اس کی فضیلت کی دستار ، یا اس کی بزرگی کا عمامہ اس کو واپس بھی ملے گا یا نہیں -
بعض لوگوں کے جوتے گم ہو جاتے ہیں -
بعض لوگوں کی گناہوں کی گٹھڑیاں غائب ہو جاتی ہیں -
بعض لوگ اپنی فضیلت و بزرگی سے محروم ہو جاتے ہیں -
میرے پاس حرم شریف کے باہر چھوڑنے کے لیے اپنے پاؤں میں ربڑ کے چپل اور سر پر گناہوں کی گٹھڑی کے علاوہ اور کچھ نہ تھا -
میں نے دل و جان سے دونوں کو اٹھا کر باہر پھینک مارا ، اور باب الاسلام کے راستے حرم شریف میں داخل ہو گیا -
اندر قدم رکھتے ہی دم بھر کے لیے بجلی سی کوندی ، اور زمین کی کشش ثقل گویا ختم ہو گئی -
مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے گاڑی کو مضبوط بریک لگا کر میرے وجود کو پنکچر شدہ ٹائر کی طرح جیک لگا کر ہوا میں معلق کر دیا گیا ہو -
جیسے میری پنڈلیوں کا گوشت ہڈیوں سے الگ ہو رہا ہو -
میرے جسم کے اعضاء کا ایک دوسرے سے رابطہ ٹوٹ سا گیا -
ہاتھ بے لوچ ہو کر لٹک سے گئے ، اور سر بھنور میں پھنسے ہوئی خس و خاشاک کی طرح بے بسی سے چکر کاٹنے لگا -
اس طرح اپاہج سا ہو کر میں طواف کے لیے آگے بڑھنے کے بجائے بے ساختہ لڑکھڑا کر وہیں بیٹھ گیا -
از قدرت اللہ شہاب شہاب نامہ
 

Enhanced by Zemanta

Comment on this post