غَم ہے یا خُوشی ہے تُو...........ناصرکاظمی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ


غَم ہے یا خُوشی ہے تُو
مِیری زِندگی ہے تُو

مِیری ساری عُمر میں
ایک ہی کمی ہے تُو...

مِیری رات کا چراغ
مِیری نیند بھی ہے تُو

مِیں خزاں کی شام ہوں
رُت بہار کی ہے تُو

دوستوں کے دَرمیاں
وجہِ دوستی ہے تُو

آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تُو

میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تُو

ناصّر اس دیار میں
کتنا اجنبی ہے تُو

کلام : ناصرکاظمی

Comment on this post