چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ....مصطفٰی زیدی

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ





چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
ہم اُن کے پاس جاتے ہیں مگر آہِستہ آہستہ
ابھی تاروں سے کھیلو، چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ
ملے گی اُس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ
دریچوں کو تو دیکھو چِلمنوں کے راز کو سمجھو
اُٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ
زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں
پِیو اِن انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ
یونہی اِک روز اپنے دل کا قصّہ بھی سنا دینا
خطاب آہِستہ آہِستہ نظر آہستہ آہستہ
مصطفٰی زیدی

Published on Urdu poetry, Urdu, Mustafa Zaidi

Comment on this post