کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کیBy Parveen Shakir

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ


کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نےخوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا اس نے
بات تو سچ ھے مگر بات ھے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا...
بس یہی بات ھے اچھی میرے ہرجائی کی
ترا پہلو بھی ترے دل کی طرح آباد رھے
تجھ پہ گذرے نہ قیامت شب تنہائی کی
اس نے جلتی ہوئی پریشانی پہ جو ہاتھ رکھا
رخ تک آگئی تاثر مسیحائی کی

Comment on this post