خواہشوں کی نمائش پہ مسکرانے والے

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

خواہشوں کی نمائش پہ مسکرانے والے
خود بھی افسردہ ہیں اج مجھے رولانے والے

تیرا غم پالنے میں ڈالے ۔۔۔ برسوں سے
دیکھ تھکے نہیں ہاتھ جھولا جھولانے والے...

خود سے لڑتے ہوئے مجھے اب ڈر لگتا ہے
کون منائے گا اب ، کہاں مجھ کو منانے والے

قا صد نے دی خبر میرے مرنے کی تو بولے
مل جائیں گے اُسے دو چار آنسو بہانے والے

میں کہاں بین کروں اب اپنی سچائی کا
اسی کے طرفدار نظر آتے ہیں زمانے والے

شعلے اٹھتے تو دیکھے تھے سب نے
پھر کہاں سے لاتا خواب آگ بجھانے والے

Comment on this post