وہ دن کتنے اچھے تھے........محسن

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

وہ دن کتنے اچھے تھے
جب سب ساتھی سچے تھے
سچی رت سچ بنتی تھی
سچ کہتے سچ سنتے تھے
سچ کے سوچ سمندر میں ...
سچے پار اترتے تھے
یار وہ قول ہی سچا تھا
یار گھڑے تو کچے تھے

ماں کی گود میں ہم نے بھی
سچے حرف ہی سیکھے تھے
ہم کو سچ نے مار دیا
ورنہ ہم کب ایسے تھے
اب کب تک سچ بولیں گے
اب تک کیا سچ سوچے تھے
جس کو سچ پہنایا تھا
اس کے زیور جھوٹے تھے
چارہ گروں کو کیا کہئے
دل کے زخم ہی گہرے تھے
اسکی سوچ کا ذکر نہیں
اس کے کپڑے اجلے تھے
سورج پوچھتا پھرتا ہے
چاند ستارے کس کے تھے ؟
ساون ٹوٹ کے برسا تھا
پھر بھی دریا پیاسے تھے
کس نے زلف بکھیری تھی
خواب مہکتے جاتے تھے
جب تک تو نزدیک نہ تھا
ہم آوارہ پھرتے تھے
محسن سوکھے پیڑوں سے
بادل کتنے اونچے تھے

Comment on this post