جب پرچم جاں لیکر نکلے ہم خاک نشین مقتل مقتل.......

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

کب یاروں کو تسلیم نہیں، کب عدو انکاری ہے....

اس کو ئےطلب میں ہم نے بھی دل نظر کیا جان واری ہے
کچھ اہل ستم کچھ اہل کرم مہ خانہ گرانے آئے تھے...

دہلیز کو چوم کر چھوڑ گئے کے یہ پتھر ہم بھاری ہے
جب ساز سلاسل بجتے تھے ہم اپنے لہو میں سجتے تھے....

 وہ ریت ابھی تک باقی ھے یہ رسم ابھی تک جاری ہے
جب پرچم جاں لیکر نکلے ہم خاک نشین مقتل مقتل....

اس وقت سے لیکر آج تلک جلاد پے ہیبت طاری ہے
زخموں سے بدن گلزار سہی پر انکے شکستہ تیر گنو....

 خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے
کس زعم میں تھے اپنے دشمن شاید انہیں معلوم نہ تھا....

یہ خاک وطن تو جان ہے اپنی
اور جان تو سب کو پیاری ہے

Comment on this post