قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی کے بیچ.......محسن

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی کے بیچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ

اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ ...

سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں
حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ

کاش اس خواب کو تعبیر کی مہلت نہ ملے
شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ

ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ ...!!

رزق، ملبوس ،مکاں ،سانس .مرض ،قرض دوا
منقسم ہو گیا انساں انہی ..افکار کے .....بیچ

دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن
آج ہنستے ہوۓ دیکھا اسے اغیار کے بیچ ...!!

Comment on this post