یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی.........انتخاب از طلوع اسلام - علامہ اقبال

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ


انتخاب از طلوع اسلام - علامہ اقبال
=====================
یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
میان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک!
ترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانی
گمان آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی
مٹایا قیصر و کسری کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا، زور حیدر، فقر بو ذر، صدق سلمانی
ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے
تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی
ثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تورانی
جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا

Comment on this post